6 اکتوبر 2026 - 16:02
لبنان کا فریم ورک معاہدہ ملکی خودمختاری کمزور اور اسرائیلی مطالبات پورے کرتا ہے

لبنانی پارلیمنٹ میں وفاداری برائے مزاحمت بلاک کے رکن حسن عزالدین نے حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے اسرائیل کو آزادانہ نقل و حرکت اور کارروائی کی اجازت ملتی ہے اور لبنان کو کسی بدلے کے بغیر اس کی موجودگی کو قانونی حیثیت دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ میں وفاداری برائے مزاحمت بلاک کے رکن حسن عزالدین نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ براہِ راست مذاکرات پر اصرار اب تک کوئی نتیجہ نہیں دے سکا۔ نہ جنگ بندی ہوئی، نہ کارروائیاں رکی ہیں اور نہ ہی قتل و غارت، تباہی، بربادی اور بے دخلی کا سلسلہ ختم ہوا ہے۔

حسن عزالدین نے جنوبی لبنان کے قصبے کفرصیر میں شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین اور دو شہید کمانڈروں محمد اسکافی اور محمود شاہین کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان آج ایسی حکومت اور سیاسی نظام کا سامنا کر رہا ہے جو بالواسطہ مذاکرات کے موجود ہونے کے باوجود براہِ راست مذاکرات کی طرف بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے جارحیت، قتل و غارت، تباہی اور بے دخلی کی پالیسی پر عمل کرتی رہی ہے۔

فریم ورک معاہدے پر تنقید

حسن عزالدین نے لبنانی حکومت کی جانب سے ’’فریم ورک معاہدے‘‘ پر دستخط کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو آزادانہ نقل و حرکت اور کارروائی کی آزادی حاصل ہوتی ہے اور لبنان میں اس کی موجودگی اور قیام کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے، جبکہ لبنان کو اس کے بدلے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ مراعات لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور پسپائی کے بدلے دی جاتیں تو اس معاملے پر بات کی جا سکتی تھی، لیکن لبنان کی خودمختاری، اپنی سرزمین، آزادی اور قومی خودمختاری پر اس وقت مذاکرات کرنا جب اس کے بدلے میں ملک کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہو، قومی مفادات اور ملکی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ نے بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے واشنگٹن کے اس اصرار سے متعلق بیانات کا بھی حوالہ دیا کہ فریم ورک معاہدے کو لبنان اور اسرائیل کے تعلقات کا واحد حوالہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا عمل موجودہ بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے، جن میں 1949 کا جنگ بندی معاہدہ اور 2006 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 بھی شامل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha